20 ستمبر 2010 - 19:30

جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ 2010ء میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے 6 واقعات جن میں سانحہ عاشور، سانحہ اربعین، سانحہ 21 رمضان لاہور، القدس ریلی کوئٹہ، سانحہ داتا دربار اور لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے شامل ہیں کا باوجود بار بار مطالبے کے عدلیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔

ان تمام سانحات میں تقریباً پانچ سو سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ ملت جعفریہ کو انصاف فراہم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا تعلق ایک خاص مکتبہ فکر سے ہے جو ان کی بالواسطہ سرپرستی اور گزشتہ سانحات کے مجرموں کی گرفتاری سے چشم پوشی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارہ چنار شدید محاصرے میں ہے جہاں حکومت واضح طور پر دہشت گردوں کا ساتھ دے رہی ہے اور پولیٹیکل ایجنٹ بھی جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف جنرل کیانی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ وفاقی حکومت سے پارا چنار کے عوام مایوس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے طالبات کی دراندازی روکی جائے، کوئٹہ القدس ریلی میں شہید ہونے والے افراد کے لئے حکومت معاوضے کا اعلان کرے، یوم عاشور، یوم چہلم اور 21 رمضان کے جلوسوں میں کی جانے والی دہشت گردی سے متعلق جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110